کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر مسوڑھوںسے خون نکلا اور حلق سے نیچے اترا تو روزہ ٹوٹ جائے گا؟ یا نہیں؟.
الجواب
بعون المَلِكِ الوَهَّابُ اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي النُّوْرَ وَالصَّوَاب
اگر اس کا مزہ حلق میں محسوس ہوا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ جیسا کہ صدر الشریعہ بدر الطریقہ مولانا امجد علی اعظمی ارشاد فرماتے ہیں۔ دانتوں سے خون نکل کر حلق سے نیچے اترا اور خون تھوک سے زیادہ یا برابر یا کم تھا مگر اس کا مزہ حلق میں محسوس ہوا تو ان سب صورتوں میں روزہ جاتا رہا اور اگر کم تھا اور مزہ بھی محسوس نہ ہوا تو نہیں ٹوٹا۔
( بهار شریعت جلد 1 حصه 5 صفحه 59 )
واللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ وَرَسُولُهُ أَعْلَم عَزَّ وَجَلَّ وَصَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم